اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فرانس میں اخراجاتِ زندگی میں اضافے اور عوامی خدمات کے معیار میں کمی کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہفتے، 17 اکتوبر کو بھی جاری رہے۔ ملک کے کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
مارسی میں مظاہرین کا ایک گروہ سٹی ہال کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوگیا، تاہم پولیس نے انہیں عمارت سے باہر نکال دیا۔ اسی دوران پیرس اور دیگر شہروں میں بھی جھڑپوں، آتش زنی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مارسی میں مظاہرین نے حفاظتی رکاوٹیں استعمال کرتے ہوئے سٹی ہال کے مرکزی دروازے پر دھاوا بول دیا اور ان میں سے بعض افراد کچھ دیر کے لیے عمارت کے اندر داخل ہوگئے۔ پیرس میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، ہفتے کی دوپہر تک پیرس سے باہر تقریباً 140 احتجاجی اجتماعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 32 ہزار 800 افراد نے شرکت کی۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں کم از کم 166 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
یہ احتجاج ابتدا میں اساتذہ کی کمی اور اسکولوں میں نامناسب سہولیات کے خلاف طلبہ کے مطالبات کے گرد شروع ہوا تھا، لیکن رفتہ رفتہ مہنگائی، عدم مساوات اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہوگیا۔
مزدور تنظیموں اور زرد جیکٹوں کی تحریک سے وابستہ متعدد کارکنوں کی شمولیت نے بھی احتجاجی مظاہروں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ فرانسیسی حکومت نے بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ کئی شہروں میں سکیورٹی اہلکاروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ